نئی دہلی،23؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی)حکومت اور کسان نئے زرعی قانون پر آمنے سامنے ہیں - تقریباً دو ماہ سے کسان ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی سے ملحقہ سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہیں - اب تک مذاکرات کے 11دور ہوچکے ہیں لیکن کوئی حل نہیں نکلا ہے- اب کاشتکاروں نے26جنوری کو ٹریکٹر مارچ نکالنے کیلئے پوری تیاری کرلی ہے- اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پہلی بار نہیں ہوگا-
اس سے قبل یوم جمہوریہ کی تاریخی پریڈ میں ٹریکٹر پریڈ نکل چکی ہے لیکن فرق یہ تھا کہ یہ مخالفت میں نکل رہی ہے اور وہ شان سے نکلی تھی-دہلی کی مختلف حدود پر پچھلے55دنوں سے اس تحریک کی قیادت کرنے والی کسان تنظیموں نے بھی26جنوری کو دہلی کے آؤٹر رنگ روڈ پر ٹریکٹر پریڈ لینے کا اعلان کیا ہے- دراصل سوشیل میڈیا پر سرچ کرتے ہوئے ایک تصویر1952 کے یوم جمہوریہ پریڈ کی ملی- اس تصویر کو دیکھنے کے بعدتاریخ کے صفحات کوپلٹاتووہ ہندوستان کی ہی تھی-26 جنوری آئین کو نافذ کیا گیا تھا- یہ پریڈ آزادی کے بعد سے ہر سال بہت خاص ہے- راج پتھ پر پریڈ میں صدر، وزیر اعظم اور غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ ملک کے ہزاروں شہری شریک ہوتے ہیں - پریڈ میں ہندوستانی فوج اور ہندوستانی ثقافت کی جھلک دکھتی ہے، تاہم کورونا کی وجہ سے اس بار یہاں کوئی غیر ملکی مہمان شرکت نہیں کررہے ہیں لیکن ہر سال، کسی نہ کسی ملک کے سربراہ کی حیثیت سے یہاں مہمان خصوصی شریک ہوتے رہے ہیں -